کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس تشہد کی کیفیت کا ذکر جو آدمی اپنی نماز میں ادا کرتا ہے
حدیث نمبر: 1948
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَالْمُغِيرَةُ ، وَالأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا إِذَا جَلَسْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلاةِ ، نَقُولُ : السَّلامُ عَلَى اللَّهِ ، السَّلامُ عَلَى جِبْرِيلَ ، السَّلامُ عَلَى مِيكَائِيلَ السَّلامُ عَلَى فُلانٍ ، السَّلامُ عَلَى فُلانٍ ، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلامُ ، فَقُولُوا : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، فَإِنَّكُمْ إِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ فَقَدْ سَلَّمْتُمْ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ " .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز میں بیٹھتے تھے، تو ہم یہ پڑھتے تھے: ”اللہ تعالیٰ پر سلام ہو سیدنا جبرائیل پر سلام ہو سیدنا میکائیل پر سلام ہو فلاں پر سلام ہو فلاں پر سلام ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے۔ آپ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ تو خود سلامتی عطا کرنے والا ہے تم لوگ یہ پڑھو۔ “ ہر طرح کی زبانی جسمانی اور مالی عباداتاللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں۔ اے نبی آپ پر سلام ہواللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ہم پر اوراللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں،اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں، سیدنا محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) جب تم لوگ ایسا کر لو گے تو تم آسمان اور زمین میں موجود ہر نیک بندے پر سلام بھیج دو گے۔