کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بیان کردہ مقام پر شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے تھے
حدیث نمبر: 1945
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ : قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ، وَهُمْ يَنْفُضُونَ أَيْدِيَهُمْ مِنْ تَحْتِ الثِّيَابِ ، فَقُلْتُ : لأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَكَبَّرَ حَتَّى افْتَتَحَ الصَّلاةَ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ إِبْهَامَيْهِ قَرِيبًا مِنْ أُذُنَيْهِ ، قَالَ : ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ ، فَلَمَّا رَكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، ثُمَّ كَبَّرَ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ سَجَدَ ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فِي الْمَوْضِعِ مِنْ وَجْهِهِ ، فَلَمَّا جَلَسَ افْتَرَشَ قَدَمَيْهِ ، وَوَضَعَ مِرْفَقَهُ الأَيْمَنَ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ، وَقَبَضَ خِنْصَرَهُ وَالَّتِي تَلِيهَا ، وَجَمَعَ بَيْنَ إِبْهَامِهِ وَالْوُسْطَى ، وَرَفَعَ الَّتِي تَلِيهَا يَدْعُو بِهَا " .
عاصم بن کلیب اپنے والد کے حوالے سے سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، ہم لوگ مدینہ منورہ آئے، تو لوگ اپنے ہاتھ اپنے کپڑوں (یعنی چادروں) کے اندر رکھے ہوئے تھے میں نے سوچا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ضرور جائزہ لوں گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: آپ نے تکبیر کہی نماز کا آغاز کیا، اور رفع یدین کیا، یہاں تک کہ میں نے آپ کے انگوٹھوں کو آپ کے کانوں کے قریب دیکھا۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر آپ نے اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیا جب آپ رکوع میں گئے، تو آپ نے رفع یدین کیا جب آپ نے اپنا سر اٹھایا، تو آپ نے «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» پڑھا پھر آپ نے تکبیر کہی اور رفع یدین کیا، پھر آپ سجدے میں چلے گئے۔ آپ نے اپنا سر دونوں ہاتھوں کے درمیان چہرے کے مد مقابل رکھا جب آپ بیٹھے تو آپ نے اپنے دونوں پاؤں کو بچا لیا اور دائیں کہنی کو دائیں زانو پر رکھا آپ نے سب سے چھوٹی انگلی اور اس کے ساتھ والی انگلی کو بند کیا۔ اپنے انگوٹھے اور درمیانی انگلی کو اکٹھا کیا، اور اس کے ساتھ والی انگلی (یعنی شہادت کی انگلی) کو بلند کیا۔ آپ نے اس کے ہمراہ دعا پڑھی۔