کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - نمازی کے لیے تشہد میں ہاتھوں کو رانوں پر رکھنے کا ذکر
حدیث نمبر: 1942
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيِّ ، ، أَنَّهُ قَالَ : رَآنِي ابْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَعْبَثُ بِالْحَصَى فِي الصَّلاةِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ نَهَانِي ، وَقَالَ : اصْنَعْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ، قَالَ : " كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلاةِ وَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ، وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ كُلَّهَا ، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ الَّتِي تَلِي الإِبْهَامَ ، وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى " .
علی بن عبدالرحمن معاوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے دیکھا، میں نماز کے دوران کنکریوں سے کھیل رہا تھا جب انہوں نے نماز مکمل کی تو مجھے (ایسا کرنے سے) منع کیا، اور ارشاد فرمایا: تم اس طرح کرو جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران بیٹھتے تھے، تو آپ اپنی دائیں پھیلی کو اپنے دائیں زانوں پر رکھتے تھے۔ آپ اپنی تمام انگلیوں کو سمیٹ لیتے تھے اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کے ذریعے اشارہ کرتے تھے آپ اپنی بائیں ہتھیلی کو اپنے بائیں زانو پر رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1942
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (907): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله رجال الشيخين غير علي بن عبد الرحمن المعاوي، فإنه من رجال مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1939»