کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اس وضاحت کا بیان کہ نماز میں پہلا تشہد نمازی پر فرض نہیں ہے
حدیث نمبر: 1941
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُحَيْنَةَ الأَسَدِيِّ ، حَلِيفِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَامَ مِنْ صَلاةِ الظُّهْرِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ ، فَلَمَّا أَتَمَّ صَلاتَهُ ، سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ، وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ ، مَكَانَ مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلُوسِ " .
سیدنا عبدالله بن بحینہ اسدی رضی اللہ عنہ جو عبدالمطلب کے حلیف ہیں وہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں اس وقت کھڑے ہو گئے، جب آپ پر بیٹھنا لازم تھا جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھنے کے دوران دو سجدے کیے۔ آپ کے ہمراہ لوگوں نے بھی یہ دو سجدے کیے یہ اس کی جگہ تھا جو بیٹھنا آپ بھول گئے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1941
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (1935 و 1936). تنبيه!! رقم (1935) = (1938) من «طبعة المؤسسة». رقم (1936) = (1939) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، وقد تقدم برقم (1938) و (1939).
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1938»