کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ نماز میں پہلا تشہد نمازیوں پر فرض نہیں
حدیث نمبر: 1940
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ ، فَقَامَ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ ، فَقَالَ النَّاسُ وَرَاءَهُ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، فَلَمْ يَجْلِسْ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلاتِهِ ، سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ، فَقَالَ : " إِنِّي سِمِعْتُكُمْ تَقُولُونَ : سُبْحَانَ اللَّهِ كَيْمَا أَجْلِسَ ، وَلَيْسَ تِلْكَ سُنَّةً ، إِنَّمَا السُّنَّةُ الَّتِي صَنَعْتُهُ " .
عبدالرحمن بن شماسہ بیان کرتے ہیں۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی۔ وہ اس وقت کھڑے ہو گئے، جب ان پر بیٹھنا لازم تھا تو ان کے پیچھے موجود لوگوں نے سبحان اللہ کہا: لیکن وہ نہیں بیٹھے جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو انہوں نے بیٹھنے کے دوران دو مرتبہ سجدہ کیا (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) انہوں نے فرمایا: میں نے تم لوگوں کا سبحان اللہ کہنا سن لیا تھا لیکن یہ سنت نہیں ہے سنت وہ ہے، جو میں نے کیا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1940
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» تحت الحديث (951). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير عبد الرحمن بن شماسة، فإنه من رجال مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1937»