کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ اپنی نماز کی پہلی دو رکعتوں کو لمبا کرے اور آخری دو کو حذف کرے
حدیث نمبر: 1937
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ قَالَ عُمَرُ ، لِسَعْدٍ : قَدْ شَكَاكَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى فِي الصَّلاةِ . فَقَالَ : " أُطِيلُ الأُولَيَيْنِ ، وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ ، وَمَا آلُو مِنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . فَقَالَ : ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ .
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا: اہل کوفہ نے ہر معاملے میں آپ کی شکایت کی ہے یہاں تک کہ نماز کے بارے میں بھی کی ہے، تو سیدنا سعد نے کہا: میں ابتدائی دو رکعات طویل ادا کرتا ہوں اور آخری دو رکعات مختصر ادا کرتا ہوں اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے طریقے کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں کرتا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ کے بارے میں یہی گمان تھا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1937
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (765): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، أبو عون الثقفي: هو محمد بن عبيد الله بن سعيد.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1934»