کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ نمازی کے لیے مستحب ہے کہ وہ دوسری رکعت کے آغاز میں خاموش نہ رہے جیسا کہ وہ پہلی رکعت میں کرتا ہے
حدیث نمبر: 1936
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَسْلَمَ الطُّوسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ ، اسْتَفْتَحَ الْقِرَاءَةَ وَلَمْ يَسْكُتْ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دو رکعات ادا کرنے کے بعد اٹھتے تھے، تو آپ قرأت کا آغاز کرتے تھے۔ آپ خاموش نہیں ہوتے تھے۔ (یعنی قرأت سے پہلے ثناء نہیں پڑھتے تھے)۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1936
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق على صحيح ابن خزيمة» (1603): م (599) تعليقا. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، محمد بن أسلم: وثقه أبو حاتم، وأبو زرعة، والمؤلف، ومن فوقه من رجال الشيخين.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1933»