کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ آدمی سجدے میں مٹی کو ہدف بنائے کیونکہ اس کا استعمال اللہ جل وعلا کے لیے عاجزی کا باعث ہے
حدیث نمبر: 1913
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الشَّحَّامُ ، بِالرِّيِّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ رَوْحٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَاهَا ذُو قَرَابَتِهَا غُلامٌ شَابٌّ ذُو جُمَّةٍ ، فَقَامَ يُصَلِّي ، فَلَمَّا ذَهَبَ لِيَسْجُدَ ، نَفَخَ ، فَقَالَتْ : لا تَفْعَلْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لِغُلامٍ لَنَا أَسْوَدَ : " يَا رَبَاحُ ، تَرِّبْ وَجْهَكَ " .
ابوصالح بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھا۔ ان کے رشتے داروں میں سے ایک نوجوان ان کے پاس آیا جس کے بڑے بڑے بال تھے وہ کھڑا ہو کر نماز ادا کرنے لگا، جب وہ سجدے میں جانے لگا، تو اس نے پہلے پھونک ماری تو سیدہ ام سلمہ نے فرمایا: تم ایسا نہ کرو کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ایک سیاہ فام لڑکے کو یہ فرمایا تھا اے رباح (سجدے کے دوران) تم اپنے چہرے کو خاک آلود کرو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1913
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «الضعيفة» (5485). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف، أبو صالح مولى آل طلحة: لم يوثقه غير المؤلف، ومحمد بن حرب: هو الخولاني المعروف بالأبرش، وهو كاتب الزبيدي محمد بن الوليد.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1910»