کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - رکوع سے سر اٹھانے کے بعد اللہ کی حمد میں اجتهاد کے استحباب کا ذکر
حدیث نمبر: 1910
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ ، قَالَ : كُنَّا يَوْمًا نُصَلِّي وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ ، وَقَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " . قَالَ رَجُلٌ وَرَاءَهُ : رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ . فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ الْمُتَكَلِّمُ آنِفًا ؟ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ رَأَيْتُ بِضْعًا وَثَلاثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا أَوَّلُ " .
سیدنا رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کر رہے تھے جب آپ نے رکوع سے سر اٹھایا، تو آپ نے «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَہ» کہا: آپ کے پیچھے ایک شخص نے یہ کلمات پڑھے۔ ” اے ہمارے پروردگار! حمد تیرے ہی لئے مخصوص ہے۔ ایسی حمد جو زیادہ ہو پاکیزہ ہو اس میں برکت موجود ہو ۔“ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ نے دریافت کیا۔ ابھی کلام کرنے والا شخص کون تھا۔ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول الله (صلی اللہ علیہ وسلم) میں تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے تیس سے زیادہ فرشتوں کو دیکھا، وہ ان کلمات کی طرف لپکے، ان میں سے کون پہلے ان کلمات کو نوٹ کرتا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1910
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (744): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1907»