کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر صرف سعید بن عبد العزیز نے بیان کی
حدیث نمبر: 1906
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ ، وَمِلْءَ الأَرْضِ ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ ، أَهْلُ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ ، لا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھا لیتے تھے، تو یہ پڑھتے تھے۔ ” اے اللہ! اے ہمارے پروردگار! حمد تیرے لئے مخصوص ہے، جو آسمانوں جتنی بھری ہوئی ہو اور زمین جتنی بھری ہوئی ہو اور اس کے بعد جو چیز تو چاہے اتنی بھری ہوئی ہو، تو تعریف اور بزرگی کا اہل ہے جس کو تو عطا کر دے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جسے تو نہ دے۔ اسے کوئی کچھ دینے والا نہیں ہے اور تیری مرضی کے مقابلے میں کسی بھی صاحب حیثیت شخص کی حیثیت فائدہ نہیں دیتی ہے ۔“