کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ بندہ اپنی نماز میں رکوع سے سر اٹھانے پر اپنے رب جل وعلا کی حمد کرتا ہے
حدیث نمبر: 1903
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ قَالَ : " اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي ، وَبَصَرِي ، وَمُخِّي ، وَعِظَامِي ، وَعَصَبِي " ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ ، قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ ، وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ " .
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع میں جاتے تھے، تو یہ پڑھتے تھے۔ ” اے اللہ! میں نے تیرے لئے رکوع کیا میں تجھ پر ایمان لایا میں نے تیرے لئے اسلام قبول کیا میری سماعت میری بصارت میرا گودا میری ہڈیاں اور میرے پٹھے تیری بارگاہ میں جھکے ہوئے ہیں۔ “ جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تھے، تو یہ پڑھتے تھے۔ ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی بات کو سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی ہے۔ اے ہمارے پروردگار ہر طرح کی حمد تیرے لئے مخصوص ہے، جو آسمانوں اور زمین جتنی بھری ہوئی ہو اور ان دونوں کے درمیان جو جگہ ہے۔ اتنی بھری ہوئی ہو۔ اس کے بعد جس چیز کو تو چاہے اتنی بھری ہوئی ہو ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1903
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (738): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، الماجشون بن أبي سلمة: هو يعقوب، والأعرج: هو عبد الرحمن.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1900»