کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی اپنی نماز کے رکوع میں دعا کرتے ہوئے سب چیزیں اپنے خالق جل وعلا کے سپرد کر دے
حدیث نمبر: 1901
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الأَنْمَاطِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ : " اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ ، أَنْتَ رَبِّي ، خَشَعَ سَمْعِي ، وَبَصَرِي ، وَمُخِّي ، وَعَظْمِي ، وَعَصَبِي ، وَمَا اسْتَقَلَّتْ بِهِ قَدَمِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " .
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع میں جاتے تھے، تو یہ پڑھتے تھے۔ ” اے اللہ! تیرے لئے میں نے رکوع کیا تجھ پر ہی میں ایمان لایا تیرے لئے میں نے اسلام قبول کیا، تو میرا پروردگار ہے۔ میری سماعت میری بصارت میرا گودا میری ہڈیاں میرے پٹھے اور میرے دونوں پاؤں پر جو چیز قائم ہے (یعنی میرا پورا وجود) اللہ کے حضور جھکا ہوا ہے، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1901
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (738): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما غير أحمد بن إبراهيم الدورقي، فإنه من رجال مسلم، حجاج: هو ابن محمد الأعور.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1898»