کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - نمازی کے لیے رکوع اور سجدے میں رب جل وعلا کی تعظیم کے حکم کا ذکر
حدیث نمبر: 1900
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ ، وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ " . ثُمَّ ثُمَّ قَالَ: " أَلا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا ، أَوْ سَاجِدًا ، أَمَّا الرُّكُوعُ ، فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ ، وَأَمَّا السُّجُودُ ، فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ہٹایا لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صفیں بنائے ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! نبوت کے مبشرات میں سے صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں، جنہیں کوئی مسلمان دیکھتا ہے یا جو اسے دکھائے جاتے ہیں پھر آپ نے ارشاد فرمایا: خبردار مجھے رکوع یا سجدے کی حالت میں تلاوت کرنے سے منع کیا گیا ہے جہاں تک رکوع کا تعلق ہے، تو تم اس میں پروردگار کی عظمت کا اعتراف کرو اور جہاں تک سجدے کا تعلق ہے، تو تم اس میں اہتمام کے ساتھ دعا مانگو۔ وہ اس لائق ہو گی، اسے تمہارے لئے مستجاب کیا جائے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1900
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر (1893). تنبيه!! رقم (1893) = (1896) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، وهو مكرر (1896).
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1897»