کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کے اثبات کا ذکر کہ جو شخص اپنی نماز میں رکوع اور سجدہ ناقص کرتا ہے، اسے چور کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 1888
أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ ، بِالرَّقَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي الْعِشْرِينَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْوَأُ النَّاسِ سَرَقَةً الَّذِي يَسْرِقُ صَلاتَهُ " . قَالَ : وَكَيْفَ يَسْرِقُ صَلاتَهُ ؟ قَالَ : " لا يُتِمُّ رُكُوعَهَا ، وَلا سُجُودَهَا " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” لوگوں میں سب سے برا چور وہ ہے، جو اپنی نماز کی چوری کرتا ہے۔ انہوں نے عرض کی: وہ اپنی نماز کی کیسے چوری کرتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ اس کے رکوع اور اس کے سجود کو مکمل ادا نہیں کرتا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1888
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «المشكاة» (885)، «صلاة التراويح» (ص 119 - 120)، «التعليق الرغيب» (1/ 181). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، عبد الحميد بن أبي العشرين: هو عبد الحميد بن حبيب، وهو كاتب الأوزاعي، ولم يرو عن غيره، مختلف فيه، وقال الحافظ في التقريب: صدوق ربما أخطأ، فمثله يكون حسن الحديث، وباقي رجاله ثقات رجال الشيخين غير هشام بن عمار، فإنه من رجال البخاري، وقد كبر، فصار يتلقن.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1885»