کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو علم کی صنعت سے ناواقف کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ ہمارے بیان کردہ پہلی دو خبروں کے مخالف ہے
حدیث نمبر: 1886
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ قَطُّ أَخَفَّ صَلاةً مِنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا أَتَمَّ ، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ وَرَاءَهُ ، فَيُخَفِّفُ مَخَافَةَ أَنْ تُفْتَنَ أُمُّهُ " .
شریک بن ابونمر بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا میں نے کسی ایسے شخص کے پیچھے نماز ادا نہیں کی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مختصر اور آپ سے زیادہ مکمل نماز ادا کرتا ہو۔ بعض اوقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیچھے کسی بچے کے رونے کی آواز سنتے تھے، تو آپ نماز کو مختصر کر دیتے تھے۔ اس اندیشے کے تحت، کہیں اس بچے کی والدہ آزمائش کا شکار نہ ہو جائے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1886
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - تقدم (1756). تنبيه!! رقم (1756) = (1759) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله رجال الصحيح، وفي شريك بن أبي نَمِرٍ كلام خفيف، وقد توبع عليه.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1883»