کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت سے ناواقف کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ ہمارے بیان کردہ براء کی خبر کے مخالف ہے
حدیث نمبر: 1885
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : قَالَ لَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : إِنِّي لا آلُو أَنْ أُصَلِّيَ بِكُمْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا ، قَالَ ثَابِتٌ : رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَصْنَعُ شَيْئًا لا أَرَاكُمْ تَصْنَعُونَهُ ، " كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ : لَقَدْ نَسِيَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الأُولَى ، قَعَدَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ : لَقَدْ نَسِيَ " .
ثابت نامی راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہم سے فرمایا میں اس حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں کروں گا، میں تمہیں اسی طرح نماز پڑھاؤں جس طرح میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیں نماز پڑھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ ثابت نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے وہ کچھ ایسا کیا کرتے تھے جو میں تمہیں کرتے ہوئے نہیں دیکھتا جب وہ رکوع سے سر اٹھانے کے بعد کھڑے ہوتے تھے، تو کہنے والا یہ کہہ سکتا تھا، شاید یہ (سجدے میں جانا) بھول گئے ہیں اور جب وہ پہلے سجدے سے سر اٹھا کر بیٹھتے تھے، تو کہنے والا یہ کہہ سکتا تھا، یہ (دوسرے سجدے میں جانا) بھول گئے ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1885
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (799): م، ق الشطر الثاني منه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، أبو الربيع الزهراني: هو سليمان بن داود العتكي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1882»