کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس مختصر لفظ کی ضرورت کو بیان کرتا ہے جو ہم نے پہلے ذکر کیا کہ لوگوں کو سلام کی اشارہ کے وقت نماز میں سکون کا حکم دیا گیا
حدیث نمبر: 1880
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْنَا بِأَيْدِينَا : السَّلامُ عَلَيْكُمْ يَمِينًا وَشِمَالا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لِي أَرَى أَيْدِيَكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ ، إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ " .
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کرتے تھے، تو ہم اپنے ہاتھ کے ذریعے (اشارہ کرتے ہوئے) دائیں طرف اور بائیں طرف السلام و علیکم کہتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا وجہ ہے، میں دیکھ رہا ہوں، تمہارے ہاتھ سرکش گھوڑوں کی دم کی مانند ہیں تم میں سے ہر ایک کے لئے اتنا کافی ہے، وہ اپنے دونوں ہاتھ اپنے زانوں پر رکھے اور پھر دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیر دے۔