کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ نمازی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنی دو رکعتوں سے کھڑے ہونے پر ہاتھ اٹھائے
حدیث نمبر: 1877
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاةِ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ فِي ذَلِكَ كُلِّهِ حَذْوَ الْمَنْكِبَيْنِ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: جب آپ نماز شروع کرتے تھے، تو آپ رفع یدین کرتے تھے جب آپ رکوع میں جانے کا ارادہ کرتے تھے جب رکوع سے سر اٹھاتے تھے جب دو رکعات ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوتے تھے، تو آپ ان تمام مقامات پر دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1878
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَوْدُودٍ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا النَّاسُ رَافِعُوا أَيْدِيهِمْ فِي الصَّلاةِ ، فَقَالَ : " مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ ؟ اسْكُنُوا فِي الصَّلاةِ " .
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس دوران کچھ لوگوں نے نماز کے دوران رفع یدین کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: کیا وجہ ہے میں تمہیں دیکھ رہا ہوں، تم اپنے ہاتھ یوں بلند کر رہے ہو، جس طرح وہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہوتی ہیں تم لوگ نماز کے دوران سکون کی حالت میں رہا کرو۔