کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ عبد اللہ بن مسعود، جن کے فضل و علم کے باوجود، یہ جائز نہیں کہ وہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے بیان کردہ مقام پر ہاتھ اٹھاتے نہ دیکھیں، حالانکہ وہ عقل و دانش والوں میں سے تھے، اللہ ان پر رحم کرے
حدیث نمبر: 1874
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَعَلْقَمَةُ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ لَنَا : أَصَلَّى هَؤُلاءِ ؟ فَقُلْنَا : لا . قَالَ : فَقُومُوا فَصَلُّوا ، فَذَهَبْنَا لِنَقُومَ خَلْفَهُ ، فَجَعَلَ أَحَدَنَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَالآخَرَ عَنْ شِمَالِهِ ، فَصَلَّى بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلا إِقَامَةٍ ، فَجَعَلَ إِذَا رَكَعَ شَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فِي الصَّلاةِ ، فَجَعَلَهَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ ، فَلَمَّا صَلَّى ، قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ، وَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّهَا سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُمِيتُونَ الصَّلاةَ يَخْنُقُونَهَا إِلَى شَرَقِ الْمَوْتَى ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ ، فَلْيُصَلِّ الصَّلاةَ لِوَقْتِهَا ، وَلْيَجْعَلْ صَلاتَهُ مَعَهُمْ سُبْحَةً " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَحِمَهُ اللَّهُ مِمَّنْ يُشَبِّكُ يَدَيْهِ فِي الرُّكُوعِ ، وَزَعَمَ أَنَّهُ كَذَلِكَ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ ، وَأَجْمَعَ الْمُسْلِمُونَ قَاطِبَةً مِنْ لَدُنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَوْمِنَا هَذَا عَلَى أَنَّ الْفِعْلَ كَانَ فِي أَوَّلِ الإِسْلامِ ، ثُمَّ نَسَخَهُ الأَمْرُ بِوَضْعِ الْيَدَيْنِ لِلْمُصَلِّي فِي رُكُوعِهِ ، فَإِنْ جَازَ لابْنِ مَسْعُودٍ فِي فَضْلِهِ وَوَرَعِهِ ، وَكَثْرَةِ تَعَاهُدِهِ أَحْكَامَ الدِّينِ ، وَتَفَقُّدِهِ أَسْبَابَ الصَّلاةِ خَلْفَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ فِي الصَّفِّ الأَوَّلِ ، إِذْ كَانَ مِنْ أُولِي الأَحْلامِ وَالنُّهَى أَنْ يَخْفَى عَلَيْهِ مِثْلُ هَذَا الشَّيْءِ الْمُسْتَفِيضِ الَّذِي هُوَ مَنْسُوخٌ بِإِجْمَاعِ الْمُسْلِمِينَ ، أَوْ رَآهُ فَنَسِيَهُ ، جَازَ أَنْ يَكُونَ رَفْعُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ عِنْدَ الرُّكُوعِ ، وَعِنْدَ رَفْعِ الرَّأْسِ مِنَ الرُّكُوعِ ، مِثْلَ التَّشْبِيكِ فِي الرُّكُوعِ أَنْ يَخْفَى عَلَيْهِ ذَلِكَ ، أَوْ يَنْسَاهُ بَعْدَ أَنْ رَآهُ .
اسود بیان کرتے ہیں: میں اور علقمہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے ہم سے دریافت کیا: کیا ان لوگوں نے نماز ادا کر لی ہے۔ ہم نے جواب دیا: جی نہیں، تو انہوں نے فرمایا: تم لوگ کھڑے ہو کر نماز ادا کرو ہم اٹھ کر ان کے پیچھے کھڑے ہونے لگے، تو انہوں نے ہم دونوں میں سے ایک کو اپنے دائیں طرف کھڑا کر لیا اور دوسرے کو بائیں طرف کھڑا کر لیا پھر انہوں نے اذان دیئے بغیر اور اقامت کہے بغیر نماز ادا کی۔ نماز کے دوران جب وہ رکوع میں گئے، تو انہوں نے انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کیں اور انہیں اپنے دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھ لیا جب انہوں نے نماز ادا کر لی، تو یہ بات بیان کی۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا تھا: ” اے لوگو! عنقریب تم پر ایسے حکمران مسلط ہوں گے، جو نماز کو فوت کر دیں گے وہ اس کا گلا یوں گھونٹیں گے جس طرح قریب المرگ شخص ہوتا ہے۔ تم میں سے جو شخص یہ صورت حال پائے وہ نماز کو اس کے مخصوص وقت میں ادا کر لے اور ان لوگوں کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رکوع کے دوران انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کیا کرتے تھے اور وہ اس بات کے قائل تھے کہ انہوں نے نبی اکرم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے لے کر ہمارے آج کے دن تک تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ فعل ابتدائے اسلام میں تھا اور پھر رکوع میں دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنے کے حکم نے اسے منسوخ کر دیا۔ تو جب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جیسی شخصیت کے تمام تر علم و فضل اور زہد و تقوی اور ان کے دینی احکام پر بکثرت عمل پیرا ہونے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ان کے پہلی صف میں نماز ادا کرنے، کیونکہ وہ سمجھدار اور تجربہ کار افراد میں سے ایک تھے، اس سب کے باوجود ان سے یہ چیز مخفی کیسے رہ سکتی ہے جو تمام مسلمانوں کے اتفاق کے ساتھ منسوخ ہے یا پھر انہوں نے اسے دیکھا اور وہ اسے بھول گئے تو یہ بات بھی ممکن ہے کہ رکوع کے دوران انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کرنے کی طرح رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رفع یدین کرنا، ان سے مخفی رہ گیا ہو یا انہوں نے اسے دیکھا ہو پھر وہ اسے بھول گئے ہوں۔