کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو رکوع کے ارادے اور اس سے سر اٹھانے پر ہاتھ اٹھانے کا حکم دیا
حدیث نمبر: 1872
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَلَيْهِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ : أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً فَظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا أَهْلِينَا ، سَأَلْنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا مِنْ أَهْلِينَا ، فَأَخْبَرْنَاهُ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا ، فَقَالَ : " ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ ، فَعَلِّمُوهُمْ ، وَمُرُوهُمْ ، وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاةُ ، فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُكُمْ ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ " .
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نوجوان ہم عمر لوگ تھے۔ ہم نے آپ کے ہاں بیس دن قیام کیا جب آپ کو یہ اندازہ ہوا، ہمیں اپنے اہل خانہ (سے دور رہنے میں) دشواری ہو رہی ہے، تو آپ نے ہم سے دریافت کیا: ہم نے اپنے اہل خانہ کے لئے کیا چھوڑا ہے۔ ہم نے آپ کو اس بارے میں بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بڑے مہربان اور نرم دل تھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تم اپنے گھر والوں کی طرف واپس چلے جاؤ تم انہیں تعلیم دو تم انہیں حکم دو اور اس طرح نماز ادا کرو جس طرح تم نے مجھے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے، جب نماز کا وقت ہو جائے، تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور جو شخص تم میں سے عمر میں بڑا ہو وہ تمہاری امامت کرے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1872
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (213). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري، رجاله رجال الشيخين غير مسدد بن مسرهد، فإنه من رجال البخاري.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1869»