کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جسے حدیث کی صنعت سے ناواقف نے دلیل کے طور پر پیش کیا اور ہمارے بیان کردہ مقامات پر ہاتھ اٹھانے کی نفی کی
حدیث نمبر: 1869
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيِّ ، وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ : أَنَا أَحْفَظُكُمْ لِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " رَأَيْتُهُ إِذَا كَبَّرَ جَعَلَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ، وَإِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ ، ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهُ ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ اسْتَوَى ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ غَيْرَ مُفْتَرِشٍ وَلا قَابِضٍ ، وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ رِجْلَيْهِ إِلَى الْقِبْلَةِ ، وَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ قَدَّمَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَجَلَسَ عَلَى مَقْعَدَتِهِ " .
محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں۔ وہ صحابہ کرام کے ہمراہ بیٹھے تھے، تو سیدنا ابوحمید ساعدی نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں آپ سب سے زیادہ یاد رکھے ہوئے ہوں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ تکبیر کہتے تھے، تو دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کرتے تھے جب رکوع میں جاتے تو دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھ لیتے تھے۔ آپ اپنی پشت کو سیدھا رکھتے تھے۔ جب آپ سر اٹھاتے تھے، تو سیدھا کھڑے ہو جاتے تھے اور جب سجدے میں جاتے تو دونوں بازوں بچھاتے بھی نہیں تھے اور اٹھا کر بھی نہیں رکھتے تھے۔ آپ اپنے دونوں پاؤں کا رخ قبلہ کی طرف رکھتے تھے جب آپ آخری رکعت میں بیٹھتے تھے، تو بائیں ٹانگ کو باہر نکال لیتے تھے اور تشریف گاہ پر بیٹھتے تھے۔