کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے طریقہ کا بیان - نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض نماز کی کیفیت کا ذکر جن کے اتباع اور ان کے لائے ہوئے احکام کی پیروی کا اللہ جل وعلا نے حکم دیا
حدیث نمبر: 1867
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ الْحَافِظُ ، بِتُسْتَرَ وَكَانَ أَسْوَدَ مِنْ رَأَيْتُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ ، فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ : أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالُوا : لِمَ ؟ فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ أَكْثَرَنَا لَهُ تَبَعَةً ، وَلا أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً . قَالَ : بَلَى . قَالُوا : فَاعْرِضْ . قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ ، كَبَّرَ ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ، وَيُقِيمُ كُلَّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ ، ثُمَّ يَقْرَأُ ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ، ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ مُعْتَدِلا لا يُصَوِّبُ رَأْسَهُ وَلا يَقْنَعْ بِهِ ، يَقُولُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ . وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ حَتَّى يَقَرَّ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ ، ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الأَرْضِ ، وَيُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ ، فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا وَيَفْتَخُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ ، ثُمَّ يَسْجُدُ ، ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَجْلِسُ عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَصْنَعُ فِي الأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ ، رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا صَنَعَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلاةِ ، ثُمَّ يُصَلِّي بَقِيَّةَ صَلاتِهِ هَكَذَا ، حَتَّى إِذَا كَانَ فِي السَّجْدَةِ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخْرَجَ رِجْلَيْهِ وَجَلَسَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْسَرِ مُتَوَرِّكًا " . فَقَالُوا : صَدَقْتَ هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ يُصَلِّيهَا الإِنْسَانُ سِتُّ مِائَةِ سُنَّةٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَخَرَجْنَاهَا بِفُصُولِهَا فِي كِتَابِ صِفَةِ الصَّلاةِ ، فَأَغْنَى ذَلِكَ عَنْ نَظْمِهَا فِي هَذَا النَّوْعِ مِنْ هَذَا الْكِتَابِ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : عَبْدُ الْحَمِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَحَدُ الثِّقَاتِ الْمُتْقِنِينَ ، قَدْ سَبَرْتَ أَخْبَارَهُ ، فَلَمْ أَرَهُ انْفَرَدَ بِحَدِيثٍ مُنْكَرٍ لَمْ يُشَارِكْ فِيهِ ، وَقَدْ وَافَقَ فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَعِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ جَعْفَرٍ فِي هَذَا الْخَبَرِ .
محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں میں نے سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دس صحابہ کرام جن میں ابوقتادہ بھی تھے۔ ان کی موجودگی میں یہ کہتے ہوئے سنا۔ سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے زیادہ علم رکھتا ہوں۔ ان حضرات نے دریافت کیا وہ کیسے۔ اللہ کی قسم! آپ نہ تو ہم سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار ہیں اور نہ پرانے صحابی ہیں۔ سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں دیگر صحابہ کرام نے کہا: پھر آپ پیش کیجئے، تو سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کیلئے کھڑے ہوتے تھے تو تکبیر کہتے تھے پھر آپ دونوں ہاتھ بلند کرتے ہوئے کندھوں تک اٹھا لیتے تھے۔ پھر آپ اس طرح قیام کرتے تھے۔ ہر ہڈی اپنی جگہ پر ہوتی تھی پھر آپ تلاوت کرتے تھے۔ پھر آپ دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے یہاں تک کہ انہیں کندھوں کے برابر لے آتے تھے۔ پھر وہ رکوع میں چلئے جاتے تھے اور اپنی دونوں ہتھیلیاں دونوں گھٹنوں پر رکھ لیتے۔ آپ اعتدال کی حالت میں رہتے آپ اپنے سر کو اٹھاتے بھی نہیں تھے اور جھکاتے بھی نہیں تھے۔ پھر «سمع اللہ لمن حمدہ» کہتے ہوئے رفع یدین کرتے یہاں تک کہ دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر لے آتے تھے (اور اس طرح کھڑے ہوتے تھے کہ) ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ جاتی تھی۔ پھر آپ زمین کی طرف آتے تھے۔ آپ اپنے دونوں بازوں اپنے پہلوؤں سے دور رکھتے تھے پھر آپ اپنا سر اٹھاتے تھے اور ایک ٹانگ کو بچھا لیتے تھے اور اس پر بیٹھ جاتے تھے۔ جب آپ سجدے میں جاتے تھے تو اپنے پاؤں کی انگلیوں کو کشادہ رکھتے تھے۔ پھر آپ سجدہ کرتے تھے۔ پھر آپ تکبیر کہتے تھے اور بائیں ٹانگ کے بل بیٹھ جاتے تھے۔ یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی مخصوص جگہ پر آ جاتی تھی۔ پھر آپ کھڑے ہوتے تھے اور دوسری رکعت میں بھی ایسے کرتے تھے۔ پھر آپ جب دو رکعات ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوتے تھے۔ دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کرتے تھے۔ جس طرح نماز کے آغاز میں کیے تھے۔ پھر آپ بقیہ نماز بھی اس طرح ادا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ جب آپ سجدہ کر لیتے تھے اس کے بعد سلام پھیرنا ہوتا تھا تو آپ اپنے دونوں پاؤں نکال لیتے تھے اور بائیں پہلو کے بل تورک کے طور پر بیٹھ جاتے تھے۔ تو دیگر صحابہ کرام نے کہا: آپ نے سچ کہا: ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز ادا کرتے تھے۔ امام ابوحاتم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: چار رکعات میں چھ سو چیزیں سنت ہیں، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں، ہم نے انہیں ان کی فصول کے ہمراہ کتاب ” نماز کا طریقہ “ میں ذکر کیا ہے۔ اب اس کتاب میں اس نوع کی ترتیب کے ذریعے میں نے اس کتاب سے بے نیاز کر دیا ہے۔ امام ابوحاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبدالحمید نامی راوی ثقہ اور متقن راویوں میں سے ایک ہیں۔ میں نے ان کے حالات کی تحقیق کی ہے، میں نے نہیں دیکھا کہ یہ کسی منکر روایت کو نقل کرنے میں منفرد ہوں جس میں ان کے ساتھ کوئی شریک نہ ہو۔ فلیح بن سلیمان اور عیسی بن عبدالله، محمد بن عمرو کے حوالے سے سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کرنے میں عبدالحمید کے موافق ہیں۔