کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ نمازی کے لیے مستحب ہے کہ وہ ہمارے بیان کردہ مقام پر اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھائے
حدیث نمبر: 1864
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ ، رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ ، وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، وَلا يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ " .
سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نے نماز کا آغاز کیا، تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کر لیے یہاں تک کہ انہیں دونوں کندھوں کے برابر لے آئے۔ جب آپ نے رکوع میں جانے کا ارادہ کیا، تو آپ نے رکوع سے سر اٹھایا (تو بھی رفع یدین) کیا۔ آپ نے سجدوں کے درمیان رفع یدین نہیں کیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1864
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر (1858). تنبيه!! رقم (1858) = (1861) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1861»
حدیث نمبر: 1865
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الْهَزَارِيُّ ، بِسَارِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلاسُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ ، قَالَ : " أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالُوا : مَا كُنْتَ أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً ، وَلا أَكْثَرَنَا لَهُ تَبَعَةً ! قَالَ : بَلَى . قَالُوا : فَاعْرِضْ . قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ ، اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، وَإِذَا رَكَعَ ، كَبَّرَ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ رَكَعَ ، ثُمَّ يَعْتَدِلُ فِي صُلْبِهِ وَلَمْ يَنْصِبْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُقَنِّعْهُ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، وَقَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ، ثُمَّ اعْتَدَلَ ، ثُمَّ سَجَدَ وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ رِجْلَيْهِ الْقِبْلَةَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَثَنَى رِجْلَهُ الْيُسْرَى ، وَقَعَدَ وَاعْتَدَلَ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلا ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ ، كَبَّرَ ، ثُمَّ قَامَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الرَّكْعَةُ الَّتِي تَنْقَضِي فِيهَا أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ عَلَى رِجْلِهِ مُتَوَرِّكًا ، ثُمَّ سَلَّمَ " .
محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ کو دس صحابہ کرام، جن میں سے ایک سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، ان کی موجودگی میں یہ کہتے ہوئے سنا: میں تم سب کے مقابلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں زیادہ علم رکھتا ہوں۔ لوگوں نے دریافت کیا آپ نہ تو پرانے صحابی ہیں اور نہ ہم سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار ہیں۔ سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا ہی ہے۔ دیگر صحابہ کرام نے فرمایا: پھر آپ پیش کیجئے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز ادا کرتے تھے) تو سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کیلئے کھڑے ہوتے تھے، تو آپ قبلہ کی طرف رخ کرتے تھے اور دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے۔ یہاں تک کہ انہیں کندھوں تک اٹھا لیتے تھے۔ پھر آپ «اللہ اکبر» کہتے پھر آپ جب رکوع میں جاتے تو تکبیر کہتے تھے اور دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے۔ پھر آپ اپنی پشت کو سیدھا کر لیتے اور سر کو اٹھاتے نہیں تھے اور بالکل جھکاتے بھی نہیں تھے۔ پھر آپ اپنا سر اٹھاتے تھے (یعنی رکوع سے اٹھتے تھے) اور یہ کہتے تھے ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی،، پھر آپ اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے انہیں کندھوں کے برابر لے آتے تھے پھر آپ سیدھے کھڑے ہو جاتے تھے پھر آپ سجدے میں جاتے تھے اور اپنے پاؤں کی انگلیوں کے کنارے قبلہ کی طرف کر لیتے تھے پھر آپ اپنا سر اٹھاتے تھے۔ «اللہ اکبر» کہتے تھے اور اپنی بائیں ٹانگ کو بچھا لیتے تھے اور اس ٹانگ پر تورک کے طور پر بیٹھ جاتے تھے پھر آپ سلام پھیر لیتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1865
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (720). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، عبد الحميد بن جعفر: من رجال مسلم، وباقي السند من رجال الشيخين.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1862»