کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ نمازی کے لیے مستحب ہے کہ وہ رکوع کے ارادے اور اس سے سر اٹھانے پر ہاتھ اٹھائے
حدیث نمبر: 1860
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيَّ ، أَخْبَرَهُ قَالَ : قُلْتُ : لأَنْظُرَنَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ حِينَ قَامَ ، فَكَبَّرَ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى ، وَالرُّسْغِ ، وَالسَّاعِدِ ، ثُمَّ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا ، ثُمَّ رَكَعَ ، فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا ، ثُمَّ سَجَدَ ، فَجَعَلَ كَفَّيْهِ بِحِذَاءِ أُذُنَيْهِ ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ فَخِذَهُ الْيُسْرَى ، وَجَعَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ ، وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى ، وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الأَيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ، وَعَقَدَ ثِنْتَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ ، وَحَلَّقَ حَلْقَةً ، ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَهُ ، فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا " ، ثُمَّ جِئْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي زَمَانٍ فِيهِ بَرْدٌ ، فَرَأَيْتُ النَّاسَ عَلَيْهِمْ جُلُّ الثِّيَابِ تَتَحَرَّكُ أَيْدِيهِمْ تَحْتَ الثِّيَابِ .
سیدنا وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ میں نے یہ سوچا میں ضرور اس بات کا جائزہ لوں گا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز ادا کرتے ہیں۔ میں نے آپ کا جائزہ لیا جب آپ کھڑے ہوئے آپ نے تکبیر کہی آپ نے ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ آپ انہیں کانوں کے برابر لے آئے۔ آپ نے اپنا دایاں دست مبارک اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت، گٹے اور کلائی پر رکھا۔ پھر آپ نے جب رکوع میں جانے کا ارادہ کیا، تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اتنا ہی بلند کیا۔ (جتنا آغاز میں کیا تھا) پھر آپ رکوع میں چلے گئے تھے۔ پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے۔ پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا اور اتنا ہی دونوں ہاتھوں کو بلند کیا۔ پھر آپ سجدے میں چلے گئے۔ آپ نے اپنے دونوں ہتھیلیاں کانوں کے مقابل میں رکھی تھی۔ پھر آپ بیٹھ گئے۔ آپ نے اپنے بائیں زانو کو بچھا لیا اور آپ نے بایاں ہاتھ اپنے بائیں زانو اور دائیں گھٹنے پر رکھا اور اپنی دائیں کہنی کو دائیں زانو پر رکھا۔ آپ نے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر ان کے ذریعے حلقہ بنایا اور پھر ایک انگلی کو بلند کیا۔ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اسے حرکت دیتے ہوئے اس کے ہمراہ دعا مانگ رہے تھے۔ اس کے بعد ایک مرتبہ میں آپ کی خدمت میں سردیوں کے موسم میں حاضر ہوا تو میں نے دیکھا کہ لوگوں نے سردیوں کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور وہ کپڑوں کے اندر ہی اپنے ہاتھوں کو حرکت دے رہے ہیں (یعنی چادروں کے اندر ہی رفع یدین کر رہے تھے)
حدیث نمبر: 1861
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ ، رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ، وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا ، وَقَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ . وَكَانَ لا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز کرتے تھے، تو دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کرتے تھے۔ جب آپ رکوع میں جانے کیلئے تکبیر کہتے تھے اور جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تھے، تو انہیں اس طرح سے بلند کرتے تھے اور آپ یہ کہتے تھے: ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی اے ہمارے پروردگار! حمد تیرے لیے مخصوص ہے ۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدوں میں (یعنی دو سجدوں کے درمیان) ایسا نہیں کیا کرتے تھے۔