کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت سے ناواقف کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ ہمارے بیان کردہ ابو سعید کی خبر کے مخالف ہے
حدیث نمبر: 1856
أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ ، بِمَكَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَفَّ النَّاسِ صَلاةً فِي تَمَامٍ " . يُرِيدُ أَخَفَّ النَّاسِ صَلاةً فِيمَا اعْتَادَهَا النَّاسُ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ ، عَلَى حَسْبِ عَادَةِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاتِهِ . وَأَمَّا خَبَرُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : فَيَخْرُجُ أَحَدُنَا إِلَى الْبَقِيعِ لِيَقْضِيَ حَاجَتَهُ ، ثُمَّ يَجِيءُ فَيَتَوَضَّأُ ، فَيَجِدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى مِنَ الظُّهْرِ ، إِنَّمَا كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَتَلاحَقَ النَّاسُ فَيَشْهَدُوا الصَّلاةَ ، وَلا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ، إِنَّمَا كَانَ يَفْعَلُهُ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى فَقَطْ ، وَفِيهِ كَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْمُدْرِكَ لِلرُّكُوعِ مُدْرِكٌ لِلتَّكْبِيرَةِ الأُولَى .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکمل لیکن سب سے زیادہ مختصر نماز ادا کرتے تھے۔ اس سے ان کی مراد یہ ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس زمانے میں لوگوں کی عام عادت کے حوالے سے مختصر نماز ادا کرتے تھے، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عام عادت کے مطابق ہوتی تھی۔ جہاں تک سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت کا تعلق ہے وہ کہتے ہیں: ہم میں سے کوئی ایک شخص قضائے حاجت کے لئے بقیع کی طرف چلا جاتا اور پھر وہ آ کر وضو کرتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ظہر کی نماز کی پہلی رکعت میں پا لیتا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا اس لئے کرتے تھے تاکہ لوگ بھی آ کر نماز میں شامل ہو جائیں، آپ ہر رکعت میں ایسا نہیں کرتے تھے۔ آپ صرف پہلی رکعت میں ایسا کرتے تھے۔ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے، رکوع کو پانے والا تکبیر اولی کو پانے والا شمار ہو گا۔