کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ یہ آخری کلام کہ لوگوں نے قراءت ترک کر دی اور مسلمانوں نے اس سے عبرت حاصل کی، یہ زہری کا قول ہے نہ کہ ابو ہریرہ کا کلام
حدیث نمبر: 1851
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنا الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةً ، فَجَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ ، قَالَ : " هَلْ قَرَأَ مَعِي مِنْكُمْ أَحَدٌ آنِفًا ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ ؟ " . قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَانْتَهَى الْمُسْلِمُونَ ، فَلَمْ يَكُونُوا يَقْرَءُونَ مَعَهُ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَا خَبَرٌ مَشْهُورٌ لِلزُّهْرِيِّ مِنْ رِوَايَةِ أَصْحَابِهِ ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَوَهِمَ فِيهِ الأَوْزَاعِيُّ - إِذِ الْجَوَادُ يَعْثُرُ - فَقَالَ : عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، فَعَلِمَ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، أَنَّهُ وَهِمَ ، فَقَالَ : عَنْ مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ سَعِيدًا . وَأَمَّا قَوْلُ الزُّهْرِيِّ : فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ ، أَرَادَ بِهِ رَفْعَ الصَّوْتِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، اتِّبَاعًا مِنْهُمْ لِزَجْرِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَفْعِ الصَّوْتِ وَالإِمَامُ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ فِي قَوْلِهِ : مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ ؟ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ آپ نے بلند آواز میں قرأت کی۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ نے دریافت کیا کہ ابھی تم میں سے کسی ایک نے میرے ساتھ تلاوت کی ہے؟ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بھی سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے، قرآن (کی تلاوت) میں میرے ساتھ مقابلہ کیا جا رہا ہے۔ زہری بیان کرتے ہیں: مسلمان اس سے باز آ گئے اور وہ لوگ آپ کی اقتداء میں تلاوت نہیں کیا کرتے تھے۔ امام ابوحاتم بیان کرتے ہیں: یہ روایت زہری سے منقول ہونے کے حوالے سے مشہور ہے جو ان کے اصحاب نے ابن اکیمہ کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے، اس میں امام اوزاعی کو وہم ہوا ہے کیونکہ گھوڑا ٹھوکر کھا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ کہا: یہ زہری کے حوالے سے سعید بن مسیب سے منقول ہے۔ ولید بن مسلم یہ بات جانتے تھے کہ انہیں وہم ہوا ہے، اس لئے انہوں نے یہ کہا: یہ اس شخص کے حوالے سے منقول ہے جس نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسے سنا ہے۔ انہوں نے سعید کا تذکر نہیں کیا۔ جہاں تک زہری کے اس قول کا تعلق ہے لوگ قرأت کرنے سے باز آ گئے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت کی پیروی کرتے ہوئے آپ کے پیچھے بلند آواز میں تلاوت نہیں کی۔ امام جب بلند آواز میں قرأت کر رہا ہو، اس کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان میں ہے؟ کیا وجہ ہے کہ قرآن میں میرے ساتھ تنازعہ کیا جا رہا ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1851
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات، لكن فيه الوهم الذي سيبينه المؤلف بإثره.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1848»