کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آواز کے ساتھ قراءت کرتے تھے
حدیث نمبر: 1850
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ يُونُسَ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، شَيْخٌ بِكُفْرِتُوثَا ، مِنْ دِيَارِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقٍ الرَّسْعَنِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةً ، فَجَهَرَ فِيهَا فَقَرَأَ أُنَاسٌ مَعَهُ ، فَلَمَّا سَلَّمَ ، قَالَ : " قَرَأَ مِنْكُمْ أَحَدٌ ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " إِنِّي لأَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ ؟ " . قَالَ : فَاتَّعَظَ الْمُسْلِمُونَ بِذَلِكَ ، فَلَمْ يَكُونُوا يَقْرَءُونَ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی اس میں بلند آواز میں قرأت کی۔ کچھ لوگوں نے آپ کی اقتداء میں تلاوت کی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ نے دریافت کیا کہ کیا تم میں سے کسی ایک نے تلاوت کی ہے، تو لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بھی سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے، قرآن کی تلاوت) میں میرے ساتھ مقابلہ کیا جا رہا ہے۔ راوی کہتے ہیں: انہوں نے اس سے نصیحت حاصل کی اور (اس کے بعد لوگ آپ کی اقتداء میں) تلاوت نہیں کرتے تھے۔