کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - مأموم کے لیے قراءت بلند آواز سے کرنے کی ناپسندیدگی کا ذکر تاکہ وہ امام کی پڑھی ہوئی چیز سے نہ جھگڑے
حدیث نمبر: 1849
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، انْصَرَفَ مِنْ صَلاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ ، فَقَالَ : " هَلْ قَرَأَ أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا ؟ " . فَقَالَ رَجُلٌ : نَعَمْ ، أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي أَقُولُ : مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ ؟ " فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : اسْمُ ابْنِ أُكَيْمَةَ : عَمْرُو بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ أُكَيْمَةَ ، وَهُمَا أَخَوَانِ : عَمْرُو بْنُ مُسْلِمٍ ، وَعُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ ، فَأَمَّا عَمْرُو بْنُ مُسْلِمٍ ، فَهُوَ تَابِعِيٌّ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَسَمِعَ مِنْهُ الزُّهْرِيُّ . وَأَمَّا عُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ ، فَهُوَ مِنْ أَتْبَاعِ التَّابِعِينَ ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، وَرَوَى عَنْهُ مَالِكٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَهُمَا ثِقَتَانِ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز کو پڑھ کر فارغ ہوئے جن میں آپ نے بلند آواز میں قرأت کی تھی۔ پھر آپ نے دریافت کیا کہ کیا تم میں سے کسی نے ابھی تلاوت کی ہے۔ ایک شخص نے عرض کی: جی ہاں! یا رسول اللہ! میں نے کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بھی سوچ رہا تھا کیا وجہ ہے، قرآن (کی تلاوت) کے حوالے سے مجھ سے مقابلہ کیا جا رہا ہے “ پھر لوگ ان نمازوں میں قرأت کرنے سے رک گئے جن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز میں تلاوت کیا کرتے تھے۔ اس وقت جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابن اکیمہ کا نام عمرو بن مسلم بن عمار بن اکیمہ ہے، یہ دو بھائی ہیں: عمرو بن مسلم اور عمر بن مسلم، جہاں تک عمرو بن مسلم کا تعلق ہے تو وہ تابعی ہیں، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے اور زہری نے ان سے سماع کیا ہے۔ جہاں تک عمر بن مسلم کا تعلق ہے تو وہ تبع تابعی ہیں۔ انہوں نے سعید بن مسیب سے سماع کیا ہے اور ان سے امام مالک اور محمد بن عمرو نے روایات نقل کی ہیں۔ یہ دونوں ” ثقہ “ ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1849
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صفة الصلاة»، «صحيح أبي داود» (781). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط رجاله رجال الشيخين غير ابن أكيمة، وهو ثقة كما مر في تخريج (1843).
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1846»