کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "میں نے جان لیا کہ تم میں سے بعض اس سے جھگڑتے ہیں" سے مراد بلند آواز سے قراءت ہے، نہ کہ امام کے پیچھے قراءت
حدیث نمبر: 1848
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، وَكَانَ يَسْكُنُ إِيلِيَاءَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الصُّبْحِ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : " إِنِّي لأَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ وَرَاءَ إِمَامِكُمْ " . قَالَ : قُلْنَا : أَجَلْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذًّا . قَالَ : " فَلا تَفْعَلُوا إِلا بِأُمِّ الْكِتَابِ ، فَإِنَّهُ لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا " . قَالَ الشَّيْخُ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلا تَفْعَلُوا " ، لَفْظَةُ زَجْرٍ مُرَادُهَا ابْتِدَاءُ أَمْرٍ مُسْتَأْنَفٍ ، إِذِ الْعَرَبُ فِي لُغَتِهَا إِذَا أَرَادَتِ الأَمْرَ بِالشَّيْءِ عَلَى سَبِيلِ التَّأْكِيدِ ، تُقَدِّمُهُ لَفْظَةَ زَجْرٍ ، ثُمَّ تُعْقِبُهُ الأَمْرَ الَّذِي تُرِيدُ .
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ آپ کیلئے قرأت کرنا دشوار ہوا جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے دریافت کیا: میرا خیال ہے تم لوگ اپنے امام کے پیچھے تلاوت کرتے ہو۔ راوی بیان کرتا ہے ہم نے عرض کی: جی ہاں! اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! ہم تیزی سے تلاوت کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ ایسا نہ کرو۔ صرف سورۃ فاتحہ پڑھ لیا کرو کیونکہ ایسے شخص کی نماز نہیں ہوتی جو اس کی تلاوت نہیں کرتا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” تم ایسا نہ کرو “ یہ الفاظ ممانعت کے ہیں، اس سے مراد ابتدائی طور پر ازسرنو کوئی حکم دینا ہے، کیونکہ عرب اپنے محاور ے میں جب تاکید کے طور پر کسی چیز کا حکم دینے کا ارادہ کرتے ہیں، تو پہلے ممانعت کے الفاظ ذکر کرتے ہیں اور پھر اس کے بعد وہ حکم ہوتا ہے جو وہ مراد لیتے ہیں۔