کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر قتادہ نے زرارہ بن اوفیٰ سے نہیں سنی
حدیث نمبر: 1847
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلَّى الظُّهْرَ ، فَجَعَلَ رَجُلٌ يَقْرَأُ خَلْفَهُ بِ : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : " أَيُّكُمُ الَّذِي قَرَأَ ؟ أَوْ أَيُّكُمُ الْقَارِئُ ؟ " . فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ : " قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا " .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی، ایک شخص نے آپ کے پیچھے سورہ اعلی کی تلاوت شروع کر دی، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے دریافت کیا: تم میں سے وہ کون شخص ہے جس نے تلاوت کی ہے؟ یا شاید یہ فرمایا: تم میں سے کون تلاوت کرنے والا ہے؟ ایک شخص نے عرض کی: میں ہوں، یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا: مجھے اندازہ ہو گیا تھا تم میں سے کوئی ایک میرے لئے رکاوٹ پیدا کر رہا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1847
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، محمد: هو ابن جعفر الملقب بغندار.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1844»