کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ اس خبر میں شک کہ یہ ظہر کے بارے میں ہے یا عصر کے بارے میں، ابو عوانہ سے ہے، نہ کہ عمران بن حصین سے
حدیث نمبر: 1846
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَرَأَ رَجُلٌ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ ، أَوِ الْعَصْرِ - شَكَّ أَبُو عَوَانَةَ - فَقَالَ : " أَيُّكُمْ قَرَأَ : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى سورة الأعلى آية 1 ؟ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَنَا . فَقَالَ : " قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا " .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے شاید ظہر یا عصر کی نماز میں تلاوت کی یہ شک ابوعوانہ نامی راوی کو ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم میں سے کس شخص نے سورت اعلی کی تلاوت کی ہے؟ حاضرین میں سے ایک شخص نے عرض کی: میں نے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ تم میں سے کوئی ایک شخص میرے لیے (تلاوت میں) رکاوٹ ڈال رہا ہے۔