کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "میں قرآن سے کیوں جھگڑا کروں" سے مراد بلند آواز سے قراءت ہے، نہ کہ امام کے پیچھے قراءت
حدیث نمبر: 1844
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ أَبِي زُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ ، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ ، أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ : " أَتَقْرَءُونَ فِي صَلاتِكُمْ خَلْفَ الإِمَامِ ، وَالإِمَامُ يَقْرَأُ ؟ " . فَسَكَتُوا ، فَقَالَهَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ قَائِلٌ ، أَوْ قَائِلُونَ : إِنَّا لَنَفْعَلُ . قَالَ : " فَلا تَفْعَلُوا ، وَلْيَقْرَأْ أَحَدُكُمْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي نَفْسِهِ " . قَوْلُهُ : " فَلا تَفْعَلُوا " ، لَفْظَةُ زَجْرٍ مُرَادُهَا ابْتِدَاءُ أَمْرٍ مُسْتَأْنَفٍ ، إِذِ الْعَرَبَ تَفْعَلُ ذَلِكَ فِي لُغَتِهَا كَثِيرًا .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو نماز پڑھائی جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے لوگوں کی طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا: کیا تم لوگ اپنے امام کے پیچھے قرأت کرتے ہو۔ جب امام تلاوت کر رہا ہو؟ لوگ خاموش رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ بات ارشاد فرمائی تو ایک صاحب نے عرض کی: یا شاید لوگوں نے عرض کی: ہم ایسا کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ ایسا نہ کرو۔ تم میں سے کوئی ایک (یعنی ہر ایک) اپنے دل میں سورہ فاتحہ کی تلاوت کر لیا کرے ۔“ روایت کے یہ الفاظ: ” تم ایسا نہ کرو “ یہ الفاظ ممانعت کے ہیں، لیکن اس سے مراد ابتدائی طور پر نئے سرے سے کوئی حکم دینا ہے، کیونکہ عرب اپنے محاور ے میں اکثر ایسا کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1844
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «صفة الصلاة»، وانظر ما يأتي برقم (1849). تنبيه!! رقم (1849) = (1852) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، مخلد بن أبي زُمَيل: هو مخلد بن الحسن بن أبي زميل الحراني، روى عنه جمع، وقال أبو حاتم: صدوق، وقال النسائي: لا بأس به، وذكره المؤلف في «الثقات»، وقال مستقيم الحديث، وقال مسلمة بن القاسم: ثقة، وباقي رجاله على شرطهما. ورواه ابن علية وغيره عن أيوب، عن أبي قلابة مرسلا.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1841»
حدیث نمبر: 1845
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ رَجُلا قَرَأَ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي الظُّهْرِ ، أَوِ الْعَصْرِ ، فَقَالَ : " أَيُّكُمْ قَرَأَ بِ : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ؟ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَنَا . فَقَالَ : " قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا " .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے شاید ظہر یا عصر کی نماز میں تلاوت کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کس نے سورۂ اعلیٰ کی تلاوت کی ہے۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا: میں نے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جان گیا تھا کہ تم میں سے کوئی ایک شخص میرے لیے رکاوٹ ڈال رہا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1845
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (782): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين، أبو عوانة: هو الوضاح بن عبد الله اليشكري.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1842»