کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظہر اور عصر میں قراءت محدود تھی
حدیث نمبر: 1826
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، قَالَ : قُلْنَا لِخَبَّابٍ : هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قُلْنَا : بِمَ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ " .
ابومعمر بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نماز میں قرأت کرتے تھے۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں ہم نے دریافت کیا: آپ کو یہ بات کیسے پتہ چلتی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی کی حرکت کی وجہ سے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1826
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (764): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناد صحيح على شرط البخاري، مسدد بن مسرهد: ثقة من رجال البخاري، ومن فوقه على شرطهما، أبو معمر: هو عبد الله بن سخبرة الأزدي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1823»