کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ آدمی کا اپنی نماز میں "آمین" کہنا اس کے پچھلے گناہوں کی مغفرت کا باعث بنتا ہے اگر وہ فرشتوں کے آمین کہنے سے موافق ہو
حدیث نمبر: 1804
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا قَالَ الإِمَامُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 ، فَقُولُوا : آمِينَ ، فَإِنَّ الْمَلائِكَةَ تَقُولُ : آمِينَ ، وَالإِمَامَ يَقُولُ : آمِينَ ، فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلائِكَةِ ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مَعْنَى قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلائِكَةِ " ، أَنَّ الْمَلائِكَةَ تَقُولُ : آمِينَ ، مِنْ غَيْرِ عِلَّةٍ : مِنْ رِيَاءٍ ، وَسُمْعَةٍ ، أَوْ إِعْجَابٍ ، بَلْ تَأْمِينُهَا يَكُونُ خَالِصًا لِلَّهِ ، فَإِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ لِلَّهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ فِيهِ عِلَّةٌ : مِنْ إِعْجَابٍ ، أَوْ رِيَاءٍ ، أَوْ سُمْعَةٍ ، كَانَ مُوَافِقًا تَأْمِينُهُ فِي الإِخْلاصِ تَأْمِينَ الْمَلائِكَةِ ، غُفِرَ لَهُ حِينَئِذٍ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ” جب امام «غير المغضوب عليهم ولا الضالین» کہے، تو تم آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتا ہے۔ جس شخص کا آمین کہنا فرشتے کے آمین کہنے کے ساتھ ہو تو اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان ” تو جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو “ اس کا مطلب یہ ہے، فرشتے ریاکاری، شہرت، خود پسندی وغیرہ جیسی کسی علت کے بغیر آمین کہتے ہیں۔ ان کا آمین کہنا، خالص طور پر صرفاللہ تعالیٰ کی رضامندی کے حصول کے لیے ہوتا ہے۔ تو جب قرأت کرنے والا شخص،اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے، خود پسندی، ریا کاری، شہرت وغیرہ جیسی کسی علت کے بغیر آمین کہے گا، تو اخلاص کے حوالے سے اس کا آمین کہنا، فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو گا۔ تو اس صورت میں اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1804
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (865): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح، ابن أبي السَّري: قد توبع، ومن فوقه من رجال الشيخين.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1801»