کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے ہمارے بیان کردہ مقام پر بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے کہنا مستحب ہے، اگرچہ بلند آواز اور آہستہ کہنا دونوں جائز ہیں
حدیث نمبر: 1801
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، وَشُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ ، قَالا : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَرَأَ : بِ " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 ، ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ حَتَّى بَلَغَ : وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 ، قَالَ : آمِينَ ، وَقَالَ النَّاسُ : آمِينَ . وَيَقُولُ كُلَّمَا سَجَدَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الْجُلُوسِ ، قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ " ، وَيَقُولُ إِذَا سَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنِّي لأَشْبَهُكُمْ صَلاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
نعیم مجمر بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز ادا کی تو انہوں نے «بسم الله الرحمن الرحیم» پڑھی پھر انہوں نے سورۃ فاتحہ پڑھی۔ یہاں تک کہ «ولا الضالین» تک پہنچے تو انہوں نے آمین کہا:۔ تو لوگوں نے بھی آمین کہا:۔ وہ جب بھی سجدے میں جاتے تھے۔ تو «اللہ اکبر» کہتے تھے اور جب بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوتے تھے، تو «اللہ اکبر» کہتے تھے۔ جب انہوں نے سلام پھیر لیا تو انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں تم سب کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہت رکھتا ہوں۔