کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ نماز کے نام کو اس قراءت پر اطلاق کیا جاتا ہے جو نماز میں ہوتی ہے کیونکہ یہ اس کے اجزاء میں سے ایک ہے
حدیث نمبر: 1795
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَلَّى صَلاةً لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ، فَهِيَ خِدَاجٌ " . قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، إِنِّي أَحْيَانًا أَكُونُ وَرَاءَ الإِمَامِ ، قَالَ: يَا ابْنَ الْفَارِسِيِّ ، اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ . فَإِنِّي فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: قَسَمْتُ الصَّلاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ ، فَنِصْفُهَا لِي ، وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي ، وَلِعَبْدِي مَا شَاءَ ، يَقُومُ عَبْدِي فَيَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 ، يَقُولُ اللَّهُ: حَمِدَنِي عَبْدِي ، فَيَقُولُ: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 ، فَيَقُولُ اللَّهُ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي ، فَيَقُولُ: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4 ، فَيَقُولُ: مَجَّدَنِي عَبْدِي ، فَهَذَا بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي ، إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سورة الفاتحة آية 5 إِلَى آخِرِ السُّورَةِ ، فَهَؤُلاءِ لِعَبْدِي ، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جو شخص نماز ادا کرے اور اس میں سورہ فاتحہ کی تلاوت نہ کرے تو وہ نماز نامکمل ہوتی ہے۔ “ (راوی کہتے ہیں)، میں نے کہا: اے ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) میں بعض اوقات امام کے پیچھے ہوتا ہوں، تو انہوں نے کہا: اے فارسی کے بیٹے! تم اسے دل میں پڑھ لیا کرو۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے نماز (یعنی سورۃ فاتحہ) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے اس کا نصف حصہ میرے لیے اور نصف حصہ میرے بندے کے لیے ہے۔ اور میرا بندہ جو چاہے گا وہ اسے ملے گا۔ میرا بندہ کھڑا ہو کر یہ کہتا ہے۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے نے میری حمد بیان کی ہے بندہ کہتا ہے وہ بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے نے میری تعریف بیان کی ہے بندہ کہتا ہے وہ روز جزا کا مالک ہےاللہ تعالیٰ کہتا ہے میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی ہے۔ یہ (یعنی اگلی آیت) میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے ” ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں “ اس کے بعد سورۃ کے آخر تک ہے۔ تو یہ سب کچھ میرے بندے کو ملے گا۔ میرے بندے نے جو مانگا ہے۔ وہ اسے ملے گا ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1795
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر (1781). تنبيه!! رقم (1781) = (1784) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، عبد العزيز بن محمد هو الدراوردي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1792»