کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "فلا تفعلوا إلا بأم الكتاب" سے سورۃ الفاتحہ کے علاوہ قراءت سے منع کرنے کی نیت نہیں تھی
حدیث نمبر: 1786
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَصَاعِدًا " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَبَرِ مَكْحُولٍ : فَلا تَفْعَلُوا إِلا بِأُمِّ الْكِتَابِ ، لَفْظَةُ زَجَرَ مُرَادٌ بِهَا ابْتِدَاءُ أَمْرٍ مُسْتَأْنَفٍ ، وَقَوْلُهُ : فَصَاعِدًا ، تَفَرَّدَ بِهِ مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، دُونَ أَصْحَابِهِ .
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ” اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورۃ فاتحہ اور مزید (کسی سورۃ) کی تلاوت نہیں کرتا ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) مکحول کے حوالے سے منقول روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” تم ایسا نہ کرو، (البتہ سورہ فاتحہ کا حکم مختلف ہے) “ یہ الفاظ ممانعت کے ہیں، لیکن مراد ابتداء میں نئے سرے سے حکم دینا ہے۔ روایت کے لفظ ” فصاعدا “ کو زہری کے حوالے سے روایت کرنے میں معمر منفرد ہے، زہری کے دیگر شاگردوں نے یہ لفظ نقل نہیں کیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1786
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر (1779). تنبيه!! رقم (1779) = (1782) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح، ابن أبي السري: تقدم غير مرة أنه يهم كثيرا، لكنه متابع عليه، وباقي رجاله رجال الشيخين.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1783»