کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - ان خبروں کا ذکر جو اللہ جل وعلا کے قول "فاقرءوا ما تيسر منه" کی تفسیر کرتی ہیں
حدیث نمبر: 1781
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ ، أَبُو يَزِيدَ الْعَدْلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَسْقَلَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " كُلُّ الصَّلاةِ يُقْرَأُ فِيهَا " ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ وَمَا أَخْفَى مِنَّا أَخْفَيْنَا مِنْكُمْ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہر نماز میں قرأت کی جاتی ہے، تو جس نماز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں قرأت سنا دیا کرتے تھے (یعنی بلند آواز میں قرأت کیا کرتے تھے) تو ہم اس میں تمہیں قرأت سنا دیتے ہیں اور جس نماز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے مخفی رکھتے تھے (یعنی پست آواز میں قرأت کرتے تھے) ہم ان میں تم سے مخفی رکھتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1781
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (762): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، عبد الواحد بن غياث: ذكره المؤلف في «الثقات»، ووثقه الخطيب، وقال أبو زرعة: صدوق، وباقي رجاله على شرط الشيخين، أبو عوانة: هو الوضاح بن عبد الله اليشكري، وعطاء هو ابن أبي رباح.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1778»