کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے طریقہ کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 1780
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الصَّلاةَ ، قَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا - ثَلاثًا - سُبْحَانَ اللَّهِ بَكْرَةً وَأَصِيلا - ثَلاثًا - أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ : مِنْ نَفْخِهِ ، وَهَمْزِهِ ، وَنَفْثِهِ " . قَالَ عَمْرٌو : نَفْخُهُ : الْكِبْرُ ، وَهَمْزُهُ : الْمُوتَةُ ، وَنَفْثُهُ : الشِّعْرُ .
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تھے۔ یہ کہتے تھے ”اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے۔ وہ بڑائی والا ہے اور ہر طرح کی حمداللہ تعالیٰ کیلئے مخصوص ہے، جو زیادہ ہو ۔“ یہ کلمات آپ تین مرتبہ کہتے تھے۔ پھر تین مرتبہ یہ کہتے تھے ” میں صبح اور شاماللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں ۔“ پھر آپ یہ کہتے تھے میں مردود شیطان سے اس کے پھونک مارنے سے اس کے پھونکنے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ۔“ عمرو نامی راوی کہتے ہیں: نفخ سے مراد تکبر ہے۔ ہمز سے مراد مرگی ہے اور نفث سے مراد شعر کہنا ہے۔