کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس تعوذ کا ذکر جو آدمی اپنی نماز میں قراءت شروع کرنے سے پہلے مانگتا ہے
حدیث نمبر: 1779
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلاةَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ : مِنْ هَمْزِهِ ، وَنَفْخِهِ ، وَنَفْثِهِ " . قَالَ عَمْرٌو : هَمْزُهُ : الْمُوتَةُ ، وَنَفْخُهُ : الْكِبْرُ ، وَنَفْثُهُ : الشِّعْرُ .
جبیر بن مطعم کے صاحبزادے اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز کا آغاز کرتے تھے، تو یہ پڑھتے تھے۔ ” اے اللہ! میں شیطان سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اس کے ٹہوکا دینے، پھونک مارنے اور پھونکنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔“ عمرو نامی راوی کہتے ہیں اس کے ٹہوکا دینے سے مراد مرگی ہے اور پھونک مارنے سے مراد تکبر ہے اور اس کے پھونکنے سے مراد شعر کہنا ہے۔