کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس دعا کی کیفیت کا ذکر جو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر اور قراءت کے درمیان اپنی خاموشی میں مانگتے تھے
حدیث نمبر: 1778
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلاةِ سَكَتَ هُنَيْهَةً قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ ، مَا تَقُولُ ؟ قَالَ : " اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں تکبیر کہتے تھے، تو آپ قرأت سے پہلے کچھ دیر خاموش رہتے تھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ قرأت اور تکبیر کے دوران کیا پڑھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (یہ پڑھتا ہوں) ” اے اللہ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان فاصلہ کر دے جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ رکھا ہے۔ اے اللہ! مجھے خطاؤں سے اس طرح صاف کر دے جس طرح سفید کپڑے سے میل کو صاف کیا جاتا ہے اے اللہ! میری خطاؤں کو برف پانی اور اولوں کے ذریعے دھو دے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1778
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر (1772). تنبيه!! رقم (1772) = (1775) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، أبو خيثمة: هو زهير بن حرب.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1775»