کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اگر نمازی امام ہو تو اس کے لیے مستحب ہے کہ قراءت شروع کرنے سے پہلے خاموش رہے تاکہ اس کے پیچھے والے سورۃ الفاتحہ کی قراءت مکمل کر سکیں
حدیث نمبر: 1777
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ ، مَوْلَى الزُّرَقِيِّينَ ، قَالَ : دَخَلَ عَلَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمَسْجِدَ ، فَقَالَ : " ثَلاثٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِنَّ ، تَرَكَهُنَّ النَّاسُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا ، وَكَانَ يَقِفُ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ هُنَيْهَةً يَسْأَلُ اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ ، وَكَانَ يُكَبِّرُ فِي الصَّلاةِ كُلَّمَا رَكَعَ وَسَجَدَ " .
سعید بن سمعان بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس مسجد میں تشریف لائے۔ انہوں نے فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں جن پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمل کیا کرتے تھے۔ لوگوں نے ان کو ترک کر دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کیلئے کھڑے ہوتے تھے، تو آپ دونوں ہاتھ بلند کر کے اٹھاتے تھے اور آپ قرأت کرنے سے پہلے کچھ دیر خاموش رہتے تھے جس میں آپاللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگتے تھے اور آپ نماز کے دوران ہر دفعہ رکوع اور سجدے میں جاتے ہوئے تکبیر کہتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1777
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر (1766). تنبيه!! رقم (1766) = (1769) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، سعيد بن سمعان: ثقة، روى له أصحاب السنن، وباقي رجال السند على شرط الشيخين.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1774»