کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی نماز کے آغاز پر ہمارے بیان کردہ دعا کے علاوہ دعا مانگ سکتا ہے
حدیث نمبر: 1776
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلاةِ سَكَتَ هُنَيْهَةً قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي وَأُمِّي ، أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ ، مَا هُوَ ؟ قَالَ : " أَقُولُ : اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں تکبیر کہتے تھے، تو آپ قرأت کرنے سے پہلے کچھ دیر خاموش رہتے تھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ تکبیر اور قرأت کے درمیان جو خاموش ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں یہ پڑھتا ہوں۔ ” اے اللہ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنا فاصلہ کر دے جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ رکھا ہے۔ اے اللہ! مجھے خطاؤں سے پاک کر دے اس طرح جس طرح سفید کپڑے کو میل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! میری خطاؤں کو پانی اولوں اور برف کے ذریعے دھو دے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1776
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، جرير: هو ابن عبد الحميد الضَّبِّي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1773»