کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی ہمارے بیان کردہ دعا کے علاوہ کسی اور دعا سے نماز کا آغاز کر سکتا ہے
حدیث نمبر: 1775
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى الْبُسْتَانِيُّ ، بِدِمَشْقَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ ، سَكَتَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ . فَقُلْتُ : بِأَبِي وَأُمِّي ، أَرَأَيْتَ سَكَتَاتِكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ ؟ أَخْبَرَنِي مَا تَقُولُ فِيهَا ؟ قَالَ : " اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر کہتے تھے، تو تکبیر اور قرأت کے درمیان کچھ دیر خاموش رہتے تھے میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ تکبیر اور قرأت کے درمیان جو خاموش رہتے ہیں۔ اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں مجھے بتائیے کہ اس دوران آپ کیا پڑھتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (میں یہ پڑھتا ہوں) ” اے اللہ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنا فاصلہ کر دے۔ جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ کیا ہے۔ اے اللہ! مجھے میری خطاؤں سے اس طرح صاف کر دے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! تو میری خطاؤں کو پانی اولوں اور برف کے ذریعے دھو دے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1775
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (750): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، علي بن خشرم: ثقة من رجال مسلم، ومن فوقه من رجال الشيخين، ابن فضيل: هو محمد بن فضيل بن غزوان الضبي، وأبو زرعة: هو أبو زرعة بن عمرو بن جرير بن عبد الله البجلي، مختلف في اسمه.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1772»