کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کی کیفیت کا ذکر کہ آدمی اپنی نماز کا آغاز کیسے کرتا ہے
حدیث نمبر: 1768
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ الصَّلاةَ بِالتَّكْبِيرِ ، وَالْقِرَاءَةِ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، وَكَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ لَمْ يُشْخِصْ بَصَرَهُ ، وَلَمْ يُصَوِّبْهُ ، وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا ، وَكَانَ يُوتِرُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى ، وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ، وَكَانَ يَقُولُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ ، وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ ، وَكَانَ يَنْهَى أَنْ يَفْرِشَ أَحَدُنَا ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ ، وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلاةَ بِالتَّسْلِيمِ " .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر اور سورۃ فاتحہ کی قرأت کے ذریعے نماز کا آغاز کرتے تھے۔ جب آپ رکوع میں جاتے تھے، تو آپ اپنی نگاہ کو بالکل جھکا کر بھی نہیں رکھتے تھے اور اٹھا کر بھی نہیں رکھتے تھے بلکہ اس کے درمیان کی صورت اختیار کرتے تھے۔ جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تھے، تو اس وقت تک سجدے میں نہیں جاتے تھے جب تک پہلے سیدھے کھڑے نہیں ہو جاتے تھے۔ جب آپ سجدے سے سر اٹھاتے تھے تو دوسری مرتبہ سجدے میں اس وقت تک نہیں جاتے تھے۔ جب تک بالکل سیدھے ہو کر بیٹھ نہیں جاتے تھے۔ آپ اپنے بائیں پاؤں کو بچھا لیتے تھے اور دائیں پاؤں کو کھڑا کر لیتے تھے اور آپ دو رکعت کے بعد تشہد پڑھتے تھے۔ آپ شیطان کے پیچھے جانے سے منع کرتے تھے اور آپ اس بات سے بھی منع کرتے تھے، کوئی شخص درندوں کی طرح اپنی کلائیاں بچھائے اور آپ سلام پھیر کر نماز کو ختم کرتے تھے۔