کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ آدمی پر ہر اٹھانے اور جھکنے میں تکبیر کہنا لازم ہے سوائے رکوع سے سر اٹھانے کے
حدیث نمبر: 1767
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حِينَ اسْتَخْلَفَهُ مَرْوَانُ عَلَى الْمَدِينَةِ ، كَانَ : " إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدِ . ثُمَّ يُكَبِّرِ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا ، ثُمَّ يُكَبِّرِ حِينَ يَقُومِ بَيْنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ التَّشَهُّدِ ، ثُمَّ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى يَقْضِيَ صَلاتَهُ " ، فَإِذَا قَضَى صَلاتَهُ وَسَلَّمَ ، أَقْبَلَ عَلَى أَهْلِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَشْبَهُكُمْ صَلاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ سَالِمٌ : وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ ، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يَخْفِضُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ .
ابوسلمہ بیان کرتے ہیں جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مروان نے مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا، تو جب وہ فرض نماز ادا کرنے کیلئے کھڑے ہوئے، تو انہوں نے تکبیر کہی اور جب رکوع میں جانے لگے تو انہوں نے تکبیر کہی اور جب رکوع سے سر اٹھایا تو «سمع اللہ لمن حمدہ» کہا: اور پھر جب وہ سجدے میں جانے کیلئے جھکے تو انہوں نے تکبیر کہی وہ تشہد کے بعد دو رکعت ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوئے، تو انہوں نے تکبیر کہی تو انہوں نے اسی طرح کیا یہاں تک کہ اپنی نماز کو مکمل کر لیا۔ جب انہوں نے اپنی نماز کو مکمل کر کے سلام پھیرا تو انہوں نے اہل مسجد کی طرف رخ پھیرا اور کہا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ میں تم سب کے مقابلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے زیادہ مشابہت رکھتا ہو۔ سالم بیان کرتے ہیں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔ البتہ وہ تکبیر کہتے ہوئے اپنی آواز کو پست رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1767
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، عبد الله: هو ابن المبارك، وهو مطول ما قبله.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1764»