کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ اپنی نماز کے لیے دل کو خالی رکھے اور شیطان کی وسوسوں کو دور کرے
حدیث نمبر: 1754
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاةِ ، أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لا يَسْمَعَ النِّدَاءَ ، فَإِذَا قُضِيَ النِّدَاءُ أَقْبَلَ ، حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلاةِ أَدْبَرَ ، حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ ، حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ ، يَقُولُ : اذْكُرْ كَذَا ، اذْكُرْ لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرْ ، حَتَّى يُصَلِّيَ الرَّجُلُ لا يَدْرِي كَمْ صَلَّى " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب نماز کیلئے اذان دی جاتی ہے، تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے اس کی ہوا خارج ہو رہی ہوتی ہے (وہ اتنی دور چلا جاتا ہے) یہاں تک کہ اسے اذان کی آواز نہیں آتی ہے۔ جب اذان مکمل ہو جاتی ہے، تو پھر وہ آ جاتا ہے، پھر جب نماز کے لئے اقامت کیلئے آتی ہے وہ پھر پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جب اقامت مکمل ہو جاتی ہے، تو وہ پھر آ جاتا ہے۔ آدمی کے ذہن میں خیالات پیدا کرنا شروع کر دیتا ہے اور وہ یہ کہتا ہے تم فلاں چیز کو یاد کرو۔ تم اس چیز کو یاد کرو وہ چیز جو ویسے اسے یاد نہیں آتی تھی۔ یہاں تک کہ جب آدمی نماز ادا کر رہا ہوتا ہے (تو بعض اوقات ایسا ہوتا ہے) کہ اسے پتہ نہیں چلتا کہ اس نے کتنی نماز ادا کی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1754
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر (16). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1751»