کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: پانچ نمازوں کا فضیلت کا بیان - اللہ جل وعلا کی طرف سے ان لوگوں کے لیے نماز کی فضیلت کا ذکر جو اس کے انتظار میں رہتے ہیں
حدیث نمبر: 1750
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ صَلاةَ الْعِشَاءِ ، حَتَّى إِذَا كَانَ شَطْرُ اللَّيْلِ ، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ : " إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا ، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلاةٍ مُذِ انْتَظَرْتُمْ " . قَالَ أَنَسٌ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز موخر کر دی یہاں تک کہ نصف رات ہو گئی۔ پھر آپ تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا: لوگ نماز ادا کر کے سو بھی چکے ہیں اور تم لوگ جب سے انتظار کر رہے تھے مسلسل نماز کی حالت میں شمار ہوئے ۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک کا منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1750
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (1535). تنبيه!! رقم (1535) = (1537) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1747»