کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: پانچ نمازوں کا فضیلت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو شخص پانچوں نمازیں ان کے حقوق کے ساتھ ادا کرتا ہے، اس سے قیامت کے دن عذاب ہٹ جاتا ہے
حدیث نمبر: 1731
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، بِوَاسِطٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنِ الْمُخْدَجِيِّ وَهُوَ أَبُو رُفَيْعٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ : يَا أَبَا الْوَلِيدِ ، إِنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ، يَزْعُمُ أَنَّ الْوِتْرَ حَقٌّ . قَالَ : كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ جَاءَ بِالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ قَدْ أَكْمَلَهُنَّ ، لَمْ يَنْقُصْ مِنْ حَقِّهِنَّ شَيْئًا ، كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ لا يُعَذِّبَهُ ، وَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ وَقَدِ انْتَقَصَ مِنْ حَقِّهِنَّ شَيْئًا ، فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ ، إِنْ شَاءَ رَحِمَهُ ، وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَبُو مُحَمَّدٍ هَذَا : اسْمُهُ مَسْعُودُ بْنُ زَيْدِ بْنِ سُبَيْعٍ الأَنْصَارِيُّ ، مِنْ بَنِي دِينَارِ بْنِ النَّجَّارِ ، لَهُ صُحْبَةٌ ، سَكَنَ الشَّامَ .
ابورفیع بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے یہ کہا: اے ابوولید! سیدنا ابومحمدیہ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب تھے، جو صحابی تھے وہ اس بات کے قائل ہیں: وتر لازم ہیں۔ سیدنا عبادہ بن صامت نے کہا: ابومحمد نے یہ غلط کہا: ہے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، جو شخص پانچ نمازیں ادا کرتا ہے اور انہیں مکمل ادا کرتا ہے وہ ان کے حق میں کوئی کمی نہیں کرتا تو اللہ کی بارگاہ میں اس شخص کیلئے یہ عہد ہےاللہ تعالیٰ اسے کوئی عذاب نہیں دے گا اور جو شخص انہیں ادا کرتا ہے، لیکن ان کے حق میں سے کسی چیز کی کمی کرتا ہے، تو ایسے شخص کے بارے میںاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی عہد نہیں ہے۔ اگر وہ چاہے گا، تو اس پر رحم کرے گا اور اگر چاہے گا، تو اس کو عذاب دے گا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابومحمد نامی راوی کا نام مسعود بن زید بن سبیع انصاری ہے، یہ بنو دینار بن نجار سے تعلق رکھتے ہیں، یہ صحابی ہیں، انہوں نے شام میں سکونت اختیار کی تھی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1731
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1276). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح، محمد بن عمرو: هو ابن علقمة بن وقاص الليثي، حسن الحديث، والمخدجي: ذكره المؤلف في «الثقات» 5/ 570، وهو لا يعرف بغير هذا الحديث، لكن تابعه أبو عبد الله الصنابحي عند أحمد 5/ 317، وأبو داود (425)، وأبو إدريس الخولاني عند الطيالسي (573)، وباقي رجاله ثقات على شرطهما.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1728»