کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: پانچ نمازوں کا فضیلت کا بیان - تیسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 1730
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَقِيتُ امْرَأَةً فِي الْبُسْتَانِ ، فَضَمَمْتُهَا إِلَيَّ ، وَقَبَّلْتُهَا ، وَبَاشَرْتُهَا ، وَفَعَلْتُ بِهَا كُلَّ شَيْءٍ ، إِلا أَنِّي لَمْ أُجَامِعْهَا . فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : أَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114 . قَالَ : فَدَعَاهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ ، فَقَالُ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَهُ خَاصَّةً ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلْ لِلنَّاسِ كَافَّةً " .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں ایک باغ میں ایک عورت کو ملا اسے اپنے ساتھ چمٹا لیا میں نے اس کا بوسہ لیا میں نے اس کے ساتھ مباشرت کی میں نے اس کے ساتھ ہر کام کیا لیکن میں نے اس کے ساتھ صحبت نہیں کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ” دن کے دونوں کناروں میں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو۔ بیشک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں، تو یہ بات نصیحت حاصل کرنے والوں کیلئے نصیحت ہے ۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلایا اور اس کے سامنے اسے تلاوت کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کہ کیا یہ حکم اس کیلئے خاص ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (جی نہیں) بلکہ تمام لوگوں کیلئے ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1730
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1727»